بھٹکل ،6؍ جون (ایس او نیوز) بھٹکل ہوناورحلقہ کے رکن اسمبلی سنیل نائک کے برتاو اور طریقہ کار کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریسی لیڈروں نے مشورہ دیا ہے کہ چونکہ وہ بی جے پی کے نہیں بلکہ عوامی نمائندے ہیں اس لئے جانب داری سے کام لینا چھوڑیں اور عوامی خدمت کا رویہ اپنائیں۔
سابق ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کی جانب سے فراہم کردہ پی پی ای کِٹس تعلقہ سرکاری ہاسپٹل کے حوالے کرنے کے بعد سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا اور بلاک کانگریس صدر سنتوش نائک نے کہا کہ خود ایم ایل اے کے اپنا گاوں شیرالی کورونا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس علاقے کو کنٹینمنٹ زون قرار دیا گیا ہے۔ تمام بازار بند ہے ۔ لیکن ایم ایل اے کے گھر کے سامنے ہی شراب کی دکان کھلی رہتی ہے۔ شیرالی کے عوام سخت مشکلوں سے گزر رہے ہیں اور رکن اسمبلی شہر سے دور ٹھنڈی ہواوں کا مزہ لے رہے ہیں۔ انہیں اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔ غیر جانب داری کے ساتھ عوامی خدمت کی ذمہ داری ان پر ہے اور وہ ہر معاملے میں جانب داری سے کام لے رہے ہیں۔
منکال وئیدیا نے کہا کہ بھٹکل میں ہائی وے توسیعی منصوبہ سے متعلق ہر مسئلہ کے لئے کانگریس پارٹی اور لیڈروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ جبکہ ریاست اور مرکز میں انہی کی پارٹی بر سر اقتدار ہے، وہ اپنی مرضی کے مطابق ہائی وے کام کروا سکتے ہیں۔
منکال نے کہا کہ عوامی مسائل کے سلسلے میں اپوزیشن پارٹی والے سوال اٹھائیں تو ان پر ناراض ہونا اور جھگڑے پراتر آنا رکن اسمبلی کا کام نہیں ہے۔ جہاں مسائل ہوتے ہیں وہاں پہنچ کر رکن اسمبلی کہتے ہیں کہ ہمیں جو کرنا ہے وہ کرکے رہیں گے اگر تمہارے بس میں ہو تو روک کر دکھاو۔ پرانے بس اسٹینڈ کے پاس واقع 'ناگ بن' کے مسئلہ پر بھی رکن اسمبلی نے کہا تھا کہ 'ہم لوگ' جو کرنا ہے وہ کرکے رہیں گے۔ آخر 'ہم لوگ' اور 'تم لوگ' سے ان کی مراد کیا ہے؟ ناگ بن کمپاونڈ کی تعمیر کے سلسلہ میں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن قانونی حدود نہیں توڑنا چاہیے۔ اس تعلق سے یہ شکایت بھی درج ہوئی ہے کہ شرپسندوں نے ناگ بن کمپاونڈ کی تعمیر کی ہے۔ اب رکن اسمبلی کو یہ بتانا ہوگا کہ وہ شرپسند کون ہیں۔
سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ بھٹکل اور ہوناور کے سرکاری اسپتالوں کو اگر موجودہ رکن اسمبلی کی طرف سے 2 ایمبولینس فراہم کیے گئے ہیں تو میرے زمانے میں ان دونوں اسپتالوں کو 4 ایمبولینس فراہم کیے گئے تھے۔ اس وقت جو ایمبولینس فراہم کی گئی ہے اس کا خرچ بھی حکومت نے دیا تھا اور اُس وقت بھی سرکاری رقم سے ہی ایمبولینس دی گئی تھی۔ اس لئے موجودہ رکن اسمبلی کو یہ ڈھنڈورا نہیں پیٹنا چاہیے کہ یہ ایک خصوصی عطیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی طرف سے منتخب نمائندوں کو جو منھ میں آئے وہ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ کووڈ وباء کا زمانہ ہے ۔ اس وقت کانگریس کے لئے سیاست کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن رکن اسمبلی جو من میں آیا بولتے رہتے ہیں، اس لئے ان کی باتوں کا جواب دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اس موقع پر ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، کانگریس اقلیتی سیل کے ضلعی صدر عبدالمجید، اے پی ایم سی صدر گوپال نائک، شریدھر نائک اسارکیری، بھاسکر نائک کائکینی وغیرہ موجود تھے۔